نئی دہلی11/ستمبر(ایس او نیوز)وزارت دفاع نے آر ٹی آئی کے ذریعے اگنی پتھ اسکیم کے بارے میں معلومات مانگنے پر کہا ہے کہ فائل 'خفیہ' ہے۔ دراصل اگنی پتھ اسکیم سے متعلق معلومات وزارت دفاع سے RTI کے ذریعہ مانگی گئی تھی، لیکن وزارت نے ایک خط لکھ کر جواب دیا ہے کہ اس فائل کو 'خفیہ' نشان زد کیاگیا ہے، اس لئے معلومات نہیں دی جاسکتی۔
میڈیا ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پونے کے رہنے والے آر ٹی آئی کارکن وہار دروے نے یہ آر ٹی آئی دی تھی۔ ماہرین نے کہا کہ آر ٹی آئی کے سیکشن 8 اور 9 کے تحت ایسی خفیہ معلومات دینے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔
بتاتے چلیں کہ 14 جولائی 2022 کو وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اگنی پتھ اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دسمبر 2022 اور فروری 2023 تک 46,000 فوجیوں کو بھرتی کیا جائے گا۔
منتخب اگنی ویروں میں سے ایک چوتھائی کو فوج میں مستقل ملازمتیں دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگنی ویر کو 30 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی جس میں سے 40 ہزار چوتھے سال میں دی جائیں گی۔ 4 سال مکمل ہونے کے بعد جب ان کی خدمات ختم ہو جائیں گی تو انہیں 11 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اس پر حکومت کا کہنا ہے کہ اس رقم کے ذریعے وہ اپنا روزگار شروع کر سکتا ہے یا اپنی مزید پڑھائی میں سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔
پرانے عمل کے بجائے نیا کیوں؟
اس اسکیم میں مرکزی نیم فوجی دستوں اور آسام رائفلز کو 10 فیصد نوکریوں کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ اس معاملے میں دروے نے جانکاری مانگی تھی کہ کیا وجہ ہے کہ یہ اسکیم پچھلی فوج کی بھرتی کے عمل کی جگہ لائی گئی تھی، جب کہ پرانا طریقہ کار طویل عرصے سے روزگار فراہم کر رہا تھا۔ دروے نے 23 جولائی کو لگائی گئی آر ٹی آئی میں پوچھا تھا کہ پیکیج اور الاؤنسز پر کیا بات چیت ہوئی ہے۔
وزارت سے دوبارہ اپیل:
انفارمیشن آفیسر نے اس آر ٹی آئی پر معلومات دینے سے جب انکار کر دیا تو آر ٹی آئی کارکن دروے نے اس معاملے میں دوبارہ محکمہ سے اپیل کی ہے اور بتایا ہے کہ معلومات دینے سے انکار کرنا غلط ہے۔ انہوں نے کہا، "معلومات کو غلط طور پر مسترد کر دیا گیا ہے کیونکہ فائل کو 'خفیہ' کے طور پر نشان زد کیا جانا معلومات کو ظاہر نہ کرنے کی وجہ نہیں ہوسکتی۔"